اس وقت میرے سامنے دو مختلف انسولین ہیں، ان میں
سے
ایک انسولین بلکل قدرتی انسولین جیسی ہے، یعنی ویسی ہے جیسی ہمارا لبلبہ بناتا ہے۔ جبکہ دوسری انسولین میں "مچھلی کے سپرم" سے لیا گیا پروٹین شامل ہے۔ یہ بات میں کوئی سنسنی پھیلانے کے لیے نہیں کہہ رہا بلکہ امید ہے تحریر کے آخر تک اپکو ان سب باتوں کی سمجھ آ جائے گی۔
شوگر (ٹائپ 1) میں لبلبہ انسولین نہیں بنا رہا ہوتا اس لیے اسکا حل جسم میں باہر سے انسولین لگانا ہے۔ پہلے یہ انسولین ذبع کئے جانے والے مویشیوں سے لی جاتی تھی۔ لیکن پھر 1980 کی دہائی میں "DNA Recombinant" ٹیکنالوجی کی مدد سے انسولین بنائی جانے لگی۔ اس تکنیک میں ہم نے انسان سے انسولین بنانے والا جین لیا اور اسے ایک بیکٹیریا میں ڈال دیا اور وہ بیکٹریا ہمارے لیے انسولین بنانے لگا۔
اس طرح انسولین کی پیداوار میں بڑی تیزی آئی، یہ انسولین بلکل ویسی ہی تھی جیسی ہمارا لبلبہ بناتا تھا۔ انسولین ایک پروٹین ہے اور پروٹین خاص کیمکلز "امائینو ایسڈز" سے بنے ہوتے ہیں، اور ہمارے جسم کے سب پروٹینز 20 مختلف امائینو ایسڈز کے ملنے سے بنے ہیں۔
پھر 90 کی دہائی میں اس انسانی انسولین سے کچھ مختلف اقسام کی انسولین بنائی جانے لگیں، انہیں "analogue insulin" کہا جاتا ہے۔ یہ انسولین ہمارے لبلبے کی انسولین سے کچھ مخصوص امائینو ایسڈز کا فرق رکھتی ہیں۔ ان analogues کے علاؤہ انسولین میں کچھ اور کیمکلز بھی شامل کئے جانے لگے۔
ان analogues اور کیمکلز کی وجہ سے وجود میں آنے والی مختلف انسولینز کے کام میں اور انسانی انسولین کے کام کی نسبت فرق آگیا۔
کچھ انسولینز ایسی تھیں جو انسانی انسولین کی نسبت زیادہ جلدی سے خون میں حل ہوتیں، اور زیادہ جلدی کام کرنا شروع کرتیں، اور زیادہ جلدی کام چھوڑ کر جسم سے خارج ہو جاتیں۔
وہیں کچھ انسولینز انسانی انسولین کی نسبت زیادہ دیر سے خون میں حل ہوتیں، زیادہ دیر سے کام شروع کرتیں لیکن جسم میں زیادہ دیر تک بھی قائم رہتیں۔
یہاں انسانی انسولین سے میری مراد وہ انسولین ہے جو DNA Recombinant کے ذریعے سب سے پہلے بنائی گئی تھی، کیونکہ وہ انسولین بلکل ویسی تھی جیسی لبلبہ بناتا ہے، اس لیے اسے انسانی انسولین (human insulin) کہا جاتا ہے۔
تو موجودہ دور میں ہمارے پاس انسانی انسولین کے ساتھ ساتھ اس کے مختلف analogues موجود ہیں، جو انسانی انسولین میں کچھ مخصوص امائینو ایسڈز کو بدل کر بنائے گئے ہیں۔ ان analogues کے علاؤہ ہم نے اس انسانی انسولین کے ساتھ کچھ اور کیمکلز شامل کرکے کچھ مزید اقسام کی انسولینز بھی بنا لیں۔
اس لیے آج کل ہمارے پاس بہت ساری اقسام کی انسولین موجود ہیں، اور انہیں ہم انکی کارکردگی کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں۔ یعنی وہ جسم میں لگانے کے بعد خون میں کتنی جلدی یا کتنی دیر سے حل ہوتی ہے، اپنا کام کتنی جلدی شروع کرتی ہے، اور کب کام کرنا بند کردیتی ہے اور جسم سے نکل جاتی ہے۔
اس بنیاد پر ہمارے پاس انسولین کی مختلف اقسام موجود ہیں۔ انسولین کی وہ قسم جو بہت جلدی کام شروع کرتی ہیں لیکن بہت جلدی سے کام بند کرکے جسم سے نکل بھی جاتی ہیں، ان کو rapid acting insulin کہا جاتا ہے۔
ان کے بعد آتی ہیں short acting insulin جو پہلی والی سے تھوڑی سست ہیں لیکن ان سے زیادہ دیر تک کام جاری بھی رکھتی ہیں۔
اس کے بعد آتی ہیں intermediate acting insulin جو مزید سست ہے اور مزید دیر تک جسم میں کام جاری رکھتی ہے۔
آخر میں ہماری long acting insulin آتی ہے جو کام شروع کرنے میں بھی کافی سست ہوتی ہے اور جسم سے خارج ہونے میں بھی کافی وقت لیتی ہے۔
ہماری انسانی انسولین، جو سب سے پہلے بنائی تھی وہ short acting insulin کی کیٹاگری میں آتی ہے۔
ہمارے ڈاکٹر حضرات مریض کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اس مریض کے لیے کون سی انسولین بہتر ہوگی جو زیادہ جلدی کام کرے لیکن زیادہ دیر تک اپنا کام جاری نہ رکھے۔ یا پھر وہ انسولین جو زیادہ تیزی سے کام نہ کرے لیکن زیادہ دیر تک کام کرتی رہے۔
ڈاکٹرز کے کام کو آسان بنانے کے لیے "premixed insulin" لائی گئی۔ یہ انسولین اصل میں دو مختلف اقسام کی انسولینز کا مکسچر ہوتی ہے۔ ان میں اکثر short acting اور intermediate acting انسولین ایک ساتھ شامل ہوتی ہیں۔ جس سے یہ مکسچر انسولین ایک ڈوز میں ہی دونوں کا کام دیتی ہے۔
میرے سامنے میں جو "Actrapid" انسولین ہے، جو پانی کی طرح نظر آرہی ہے۔ یہ ہماری انسانی انسولین ہے۔ یعنی short acting insulin ہے جو ہمارے لبلبے کی انسولین جیسی ہے۔ اس کا انجیکشن لگانے کے تقریباً 30 منٹ بعد اپنا کام شروع کرتا ہے اور زیادہ سے زیادہ چھے گھنٹے تک یہ جسم میں رہتی ہے۔
اس کے ساتھ جو دوسری "Mixtard" انسولین ہے، یہ ایک pre mixed انسولین ہے، یعنی اس میں دو طرح کی انسولین ہوں گی۔ ایک تو وہی انسولین جس کا ابھی اوپر ذکر کیا ہے یعنی انسانی انسولین جو کہ short acting ہوتی یے اور اسے ریگولر انسولین بھی کہا جاتا ہے۔
اس کے علاؤہ mixtard میں دوسری قسم کی انسولین ایک intermediate acting انسولین ہے، جو کہ اپنا کام شروع کرنے میں تین گھنٹے تک لے سکتی ہے الںتہ 16 گھنٹے تک کام جاری بھی رکھ سکتی ہے۔
یہ دوسری قسم کی انسولین (intermediate) بھی اصل میں انسانی انسولین ہی ہوتی ہے، لیکن اس کے کام کے دورانیے کو بڑھانے کے لیے اس میں زنک (zinc) اور ایک خاص پروٹین "protamine" شامل کیا جاتا ہے۔
یہ پروٹین protamine کچھ اور ادویات میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور قدرتی طور پر یہ کچھ مچھلیوں کے سپرم میں پایا جاتا ہے اور ادویات سازی کے لیے زیادہ تر وہیں سے حاصل کیا جاتا ہے۔
سیلمون اور ٹراؤٹ مچھلی کے سپرم سے مختلف کیمکل پروسسز کے بعد protamine نکلا جاتا ہے، اسے صاف اور pure بنایا جاتا ہے اور یہ کام فرماسیوٹیکل انڈسٹریز میں بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔
ویسے mixtard میں جو intermediate insulin شامل ہے اسے شارٹ فارم میں NPH کہتے ہیں، اور یہ دیکھنے میں پانی جیسی شفاف نہیں ہوتی بلکہ "دودھیا" (milky) سی ہوتی ہے۔ اس لیے mixtard انسولین بھی دودھیا جیسی لگتی ہے۔
اس NPH کے علاؤہ کچھ اور intermediate insulin بھی ہوتی ہیں۔۔۔


%20(2).jpeg)


%20(3).jpeg)