اتوار، 22 اکتوبر، 2023

مسئلہ فلسطین بیت المقدس🇵🇸 اصل جنگ ہے کیا


 اصل جنگ کیا ہے؟

🇵🇸بیت المقدس تین مذاہب کی مقدس جگہ۔۔

۔مسلمانوں کا قبلہ اول 

عیسائیوں کے لئے یسوع کی جائے ولادت

یہودیوں کے لئے ہیکل سلیمان


شروع کرتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے۔ جن کے دو بیٹے تھے اسماعیل  اور اسحاق۔ 

اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے حضرت یعقوب۔ 

یہیں سے کہانی شروع ہوتی ہے اسرائیل کی۔ اسرائیل یعنی اللہ کا بندہ۔ اور یہ لقب حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیا گیا۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام نے جب کفیل مصر بنے تو آپ کو حکم ہوا کہ اپنے تمام خاندان یعنی آل یعقوب کو مصر بلایا جائے۔ اور مصر کی سرزمین کا ایک مخصوص حصہ ان کے لئے مختص کیا گیا۔ اور اللہ کی طرف سے کہا گیا کہ اے آل یعقوب اس سرزمین میں تمھارے لئے برکتیں ہیں۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام بارہ بھائی تھے اسی لئے اللہ تعالی نے ان کے لئے بارہ چشمے جاری کیے۔ اور یوں اس سرزمین کا نام حضرت یعقوب کے لقب سے اسرائیل پڑگیا۔ جسے آج یروشلم بھی کہا جاتا ہے۔ 

آپ کی نسل سے کم و بیش ستر ہزار انبیائے کرام آئے۔

حضرت یوسف کے بھائی یہودا کی نسل آگے بڑھی تو اس میں سے آنے والے تمام بنی اسرائیلی یہودی کہلائے۔ 

وقت گزرتا گیا اور حضرت موسی علیہ السلام کا دور آیا۔ جب فرعون نے مصر کی آپ پر تنگ کی تو بنو اسرائیل کے ساتھ آپکو مصر سے نکلنا پڑا۔ 

اس دوران بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کی بہت سے کرم نوازیاں بھی ہوئیں، جس میں من و سلوی، چشموں کی بہتات، مچھلیوں کے شکار کا ذکر قرآن پاک سے بھی ملتا ہے۔ اور وہیں ہمیں ایک گائے کا ذکر بھی ملتا ہے، جس کے لوتھڑے سے مردے نے اللہ کے حکم سے زندہ ہوکر اپنے قاتل کا بتایا۔ اس گائے کی نشانیاں اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بیان فرمائیں۔ جوکہ ایک سرخ مائل رنگت کی گائے تھی اور ایسی گائے آج بھی یہودیوں کے نزدیک مقدس مانی جاتی ہے۔ 

حضرت موسی علیہ السلام کے بعد دیگر نبی آئے۔ اس دوران میں حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے دور کی کچھ باقیات، تورات، من و سلوی کا کچھ حصہ بنی اسرائیل نے ایک صندوق میں محفوظ کرلیا۔ یہ اللہ کی طرف حضرت آدم کو دیا گیا ایک خاص صندوق تھا جو نسل در نسل نبیوں کے پاس رہا۔ جسے قرآن میں تابوت سکینہ کے نام پکارا گیا ہے۔ اور یہ یہودیوں کو اپنی جان سے ذیادہ عزیز ہے۔ 

حضرت داؤد نے جب جالوت کو ہرا کر اس سے تابوت سکینہ حاصل کیا تو یوں بنی اسرائیل نے انہیں نبی تسلیم کرلیا۔ اور حضرت داؤد علیہ السلام نے اس صندوق کی حفاظت کے لئے ایک ہیکل تعمیر کروانا شروع کیا جو کہ انکی زندگی میں مکمل نہ ہوسکا۔ ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی مدد سے اس کو مکمل کروایا اور اسی دوران میں آپکی بھی وفات ہوگئی۔ 

اسی وجہ سے اسے ہیکل سلیمانی کہا جاتا ہے۔

بعد ازاں بابل کے باشاہ بخت نصر نے اسرائیل پر حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی کو بھی گرا دیا۔ اور تابوت سکینہ بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ 

سیپرس دی گریٹ نے دوبارہ یہ شہر  حاصل کیا۔ یہودیوں کو دوبارہ یہاں آباد کیا اور تابوت سکینہ کو بھی واپس لایا گیا۔ ہیکل سلیمانی ایک دفعہ پھر تعمیر کیا گیا۔ 

پھر وقت گزرا اور حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ہوئی۔ جنہیں نعوذبااللہ یہودیوں نے دجال، ناجائز اور کیا کیا لقب دیئے۔ یہاں سے یہودیوں میں سے دو الگ قومیں ہوگئیں ایک یہودی اور دوسرے عیسائی۔ 

یہودیوں نے سازش کرکے حصرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانا چاہا اور اللہ تعالی نے انہیں اپنے پاس اٹھالیا۔ 

اس کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں میں کئی چھوٹی موٹی جنگیں ہوئیں۔ پھر عیسائی رومی بادشاہ ٹائیٹس نے اس شدت سے یروشلم پر حملہ کیا کہ اس پورے علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ہیکل سلیمانی کو گرادیا۔ جس کی صرف ایک دیوار اس وقت اپنی اصلی حالت میں موجود ہے جسے دیوار گریہ کہاجاتا ہے۔ جہاں یہودی جاکر تورات کی تلاوت کرتے ہیں اور گریہ و زارہ کرتے ہیں۔ تابوت سکینہ بھی نہ جانے کہاں غائب ہوگیا۔ 

ٹائٹس کے حملے کے بعد یہودی آخری نبی کے انتظار میں تھے۔ کیونکہ اللہ پاک کا ان سے وعدہ تھا کہ انہیں پھر عروج بخشا جائے گا۔

اس وعدہ کا ذکر سورہ البقرہ میں بھی موجود ہے کہ 


"اے بنی اسرائیل، ان نعمتوں کو یاد کرو جو تم پر کی گئیں، اور اپنا وعدہ پورا کرو (ایمان لاو) تاکہ ہم بھی اپنا وعدہ پورا کریں۔"


قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہیکل سلیمانی کی تین دفعہ تعمیر ہوگی۔ جوکہ دو دفعہ ہوچکی ہے۔

یہودی اپنے مسیحا اور آخری نبی کے انتظار میں تھے کہ ٹائیٹس کے حملے کے پانچ سو سال بعد نبی آخرالزمان کی ولادت ہوئی۔ یہاں یہودیوں کو یہ جھٹکا لگا کہ سارے نبی حضرت اسحاق کی نسل سے ہیں تو آخری نبی حضرت اسماعیل کی نسل سے کیونکر آگئے۔۔۔ اور انہوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا۔

مسلمانوں کے لئے بھی وہ انبیاء کی ہی نشانی تھی اسی لئے ہیکل سلیمانی کو بیت المقدس کا نام دیا گیا۔ 

اسلام کے آغاز میں یہودیوں کو قائل کروانے کی خاطر ہی بیت المقدس کی جانب منہ کرکے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔ کیونکہ یہودی اسی طرف منہ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔ 

سترہ ماہ بعد ہماری عبادت کا رخ بیت المقدس سے بیت اللہ کی جانب موڑ دیا گیا۔ کیونکہ مسلمانوں کا شروع سے قبلہ اول وہی رہا۔ جسے پہلے حضرت آدم اور پھر حضرت ابراہیم نے تعمیر کیا۔ 

حضرت عمر رض کے دور حکومت میں اسرائیل یعنی یروشلم پر عیسائیوں کا قبضہ تھا۔ بیت المقدس کے ہی احاطے میں انہوں نے گرجا گھر تعمیر کیا ہوا تھا۔ اور عین تابوت سکینہ والی جگہ وہ گند پھینکا کرتے تھے یہودیوں کی نفرت میں۔ یروشلم کی فتح کے وقت جب حضرت عمر وہاں گئے تو عیسائیوں پر برہم ہوئے۔ وہاں صفائی کروا کر مسجد تعمیر کروائی، اور قرآن میں موجود معراج والے واقعے کی نسبت سے اس مسجد کو اقصی کا نام دیا۔ 

یہودیوں کی دیوار گریہ بھی اسی احاطے میں موجود تھی تو زائرین کی حثیت سے انہیں بھی وہاں آنے کی اجازت دے دی گئی۔ 

خلافت عباسیہ تک یروشلم ایک مسلم شہر رہا۔ 

اس کے بعد عسائیوں نے دوبارہ یروشلم پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔ صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کے خلاف پچاس سے زائد جنگیں کرکے بیت المقدس دوبارہ حاصل کیا۔ اور پھر سات سو سالوں تک یہ خلافت عثمانیہ کے زیر سلطنت رہا۔ یہودیوں کو بھی دیوار گریہ تک اپنے مذہبی اقدامات کی آزادی رہی۔ اور یہودی آہستہ آہستہ پھر یروشلم میں آباد ہونا شروع ہوگئے۔ اس دوران میں کئی بار انہوں نے خلافت عثمانیہ کے سلطان کو پیسوں کے عوض یروشلم انہیں سونپنے کا لالچ دیا لیکن ناکام رہے۔ 

اور پھر دوسری جنگ عظیم میں عیسائی سپاہی ہٹلر نے چن چن کر یہودیوں مارا۔ قریبا ساٹھ لاکھ کے قریب یہودیوں کا قتل عام کیا گیا اور یہ دربدر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ انہیں اب خود اپنی پہچان بنانی ہے۔ اور بائبل میں موجود یہودیوں کے آخری عروج سے قبل والی کئی نشانیاں بھی ظاہر ہوچکی تھیں۔ اور وہ یہ تسلیم کرچکے تھے کہ انکا آخری مسیحا اب دجال ہوگا جس کی بدولت پوری دنیا میں انکا دوبارہ بول بالا ہوگا۔ 

انہوں نے برطانیہ سے ساز باز کرکے خود کو الگ ریاست تسلیم کروالیا۔ یوں اسرائیل باقاعدہ ایک ملک کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ پھر آہستہ آہستہ انہوں نے فلسطین اور دیگر مصری علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ عرب ممالک اسرائیل کے خلاف جنگ پر آئے لیکن اس وقت تک یہ خود کو اتنا مضبوط کرچکے تھے عرب ممالک کو اس ایک چھوٹے سے ملک سے منہ کی کھانی پڑی۔ عسائیوں نے بھی دیکھ لیا کہ اب ان سے لڑ کر کچھ وصول نہیں ہونا تو باقاعدہ گرجا گھروں میں پادریوں نے تقریبات منعقد کیں اور یہودیوں کے لئے معافی کا اعلان کیا گیا۔ یوں سیاسی اور اقتصادی مفاد پرستی نے دو ہزار سالوں سے ایک دوسرے کے ازلی و جانی دشمنوں کو ایک صف پر لا کھڑا کیا۔ اور قرآن کی بات بھی سچ ہوگئی کہ

یہود و نصری ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ 

یہودیوں کے عقائد کے مطابق وہ ہیکل سلیمانی کی حفاظت نہیں کرپائے تو خود کو قصوروار کہتے ہیں۔ خود کو سزا دینے کے لئے زنجیروں اور چمڑے سے پیٹتے ہیں۔ اور دیوار گریہ کے پاس آہ و زاری کرتے ہیں۔ 

وہ ایمان رکھتے ہیں تیسری بار انہیں پوری دنیا پر حکمرانی حاصل ہوگی۔ اس کے لئے انہیں مسجد اقصی کو گرانا ہوگا۔ جس کی تیارہ وہ کرچکے ہیں۔ کب سے مسجد اقصی کے نیچے بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں۔ اس کے بعد ہیکل سلیمانی تعمیر کرکے تابوت سکینہ وہاں رکھنا ہے۔ تابوت سکینہ بھی وہ دوبارہ حاصل کرچکے ہیں۔ 

لیکن مسئلہ تھا سرخ گائے۔۔۔ کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق وہ ناپاک ہیں اور جب تک پاک نہیں ہوجاتے ہیکل سلیمانی تعمیر نہیں کرسکتے۔ اور پاک ہونے کے لئے سرخ گائے کی قربانی دینا ہوگی۔ 

وہ گائے جس کی نشانیاں قرآن پاک میں بیان کی گئیں۔ جو اسوقت بھی انہیں ڈھونڈنے میں مشکل ہوئی تھی۔ اب بھی ایک سو سال تک وہ ویسی گائے کی تلاش کرتے رہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بچے پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا انہوں نے۔ پھر اس تجربے کی بدولت ویسی نشانیوں والی گائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکام رہے۔ دوہزار انیس میں ایک امریکی ریاست سے پانچ عدد ویسی گائیں انہیں مل گئیں۔ جن کے جسم پر سرخ رنگ کے علاوہ اور کوئی بال نہیں تھا۔ انہیں کبھی کام کے لئے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اگلی نشانی کہ ان پر کسی بیماری کا اثر نہیں ہونا چاہیے، پوری دنیا میں کووڈ پھیلا کر مختلف جانوروں کے ساتھ انہیں بھی ٹیسٹ کیا گیا اور ان پر اس بیماری کا کوئی اثر نہ ہوا۔  


Red heifer found

Mastery of Red heifer


یہ گوگل میں سرچ کرکے آپ اس متعلق تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں۔ 

الغرض قرب قیامت اور دجال کے ظہور والی تمام تر تیاریاں وہ مکمل کرچکے ہیں۔ 

اپنی مرضی کے ڈاکٹر، انجینئر بچے پیدا کرنا، نائن ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک جگہ ہوتے ہوئے کئی جگہ موجود رہنا، اپنی مرضی کے موسم بنانا، جب چاہو بارش برسا دینا، چند دنوں میں پوری دنیا گھوم لینا یہ سب دجالی نشانیاں ہیں جو آج کے دور میں کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ہمارے اسلام میں بتائی گئی قیامت کی نشانیوں کی انہوں نے اتنے اچھے سے تیاری کرلی ہے کہ غرقد کے درخت لگا دیے۔ جو انہیں پناہ دیں گے۔ باب لد جس جگہ احادیث کے مطابق دجال کا حضرت عیسی ع کے ہاتھوں قتل ہونے کا ذکر موجود ہے اس جگہ وہ دجال کے فرار کے لئے ایئر پورٹ بنا چکے ہیں۔ 

یہ سب تو قربت قیامت کی نشانیاں ہیں اور ہیکل سلیمانی نے بھی بن کر رہنا ہے۔ پھر اصل جنگ کیا ہے؟

اصل جنگ عقائد کی ہے۔ ہم اپنے عقائد میں اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ہمیں فرق نہیں پڑتا۔ اپنے بہن بھائیوں کا حق کھا کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور فرقوں کے خرافات میں الجھے ہوئے ہیں۔ 

فلسطینوں کے لئے سوائے دعا اور احتجاج کے ہم کیا کرسکتے ہیں؟

کیا ہم اپنے عقائد کے اتنے مضبوط ہیں کہ ڈالر کہ بہکاوے میں نہ آئیں؟

کیا ہم یہودیوں کے مقابلے میں نکلنے والے خراسان مجاہدین کی لسٹ میں آتے ہیں یا بس سوشل میڈیا کے تماشائی ہیں؟

اگر آج دجال ظاہر ہوجائے اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے تو ہماری آخرت کے لئے کیا تیاری ہے؟

سوچ کر جواب ضرور دیجئے گا۔

 


‏حضرت عیسیٰ ؑ کانے دجال کا خاتمہ نبی کریم ﷺ کی کس تلوار سے کریں گے اور وہ تلوار اس وقت دنیا میں کہاں موجود ہے ؟

 ‏حضرت عیسیٰ ؑ کانے دجال کا خاتمہ نبی کریم ﷺ کی کس تلوار سے کریں گے اور وہ تلوار اس وقت دنیا میں کہاں موجود ہے ؟ 




 حضور نبی کریم ﷺ کی 9مبارک تلواروں میں سے ایک کا نام البتّار ہے ۔ 

یہ تلوار سرکارِ دو عالم نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یثرب کے یہودی قبیلے (بنو قینقاع ) سے مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی۔ 

اس تلوار کو (سیف الانبیاء ) نبیوں کی تلوار بھی کہا جاتا ہے۔اس تلوار پر حضرت داؤود علیہ السلام‘ سلیمان علیہ السلام‘ ہارون علیہ السلام‘یسع علیہ السلام‘ زکریا علیہ السلام‘ یحییٰ علیہ السلام‘ عیسی علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اسماء مبارکہ کنندہ ہیں۔  

یہ تلوار حضرت داؤود علیہ السلام کو اس وقت مالِ غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی جب ان کی عمر بیس سال سے بھی کم تھی۔

اس تلوار پر ایک تصویر بھی بنی ہوئی ہے جس میں حضرت داؤود علیہ السلام کو جالوت کا سر قلم کرتے دکھایا گیا ہے جو اس تلوار کا اصلی مالک تھا۔

تلوار پر ایک ایسا نشان بھی بنا ہوا ہے جو’’ بترا‘‘ شہر کے قدیمی عرب باشندے (البادیون) اپنی ملکیتی اَشیاء پر بنایا کرتے تھے۔  بعض روایات میں یہ بات بھی ملتی ہے کہ یہی وہ تلوار ہے جس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں واپس آنے کے بعد ’کانے دجال‘ کا خاتمہ کریں گے اور دشمنانِ اسلام سے جہاد کریں گے۔

تلوار کی لمبائی 101 سینٹی میٹر ہے اور آجکل یہ تلوار ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر’ ’توپ کاپی‘‘استنبول میں محفوظ ہے۔

دجال کے خاتمہ کے بعد حضرت عیسیٰؑ اسی حال میں ہوں گے کہ اچانک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس یہ وحی آئے گی کہ میں نے ایسے بندے پیدا کئے ہیں  جن سے لڑنے کی قدرت و طاقت کوئی نہیں رکھتا۔ 

تم میرے بندوں کو جمع کر کے کوہ طور کی طرف لے جاؤ اور ان کی حفاظت کرو، 

پھر اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو ظاہر کرے گا جو ہر بلند زمین کو پھلانگتے ہوئے اتریں گے اور دوڑ یں گے ان کی تعداد اتنی زیادہ ہو گی کہجب ان کی سب سے پہلی جماعت بحر طبریہ سے گذرے گی تو اس کا سارا پانی پی جائے گی۔  

پھر جب اس جماعت کے بعد آنے والی جماعت وہاں سے گذرے گی تو بحر طبریہ کو خالی دیکھ کر کہے گی کہ اس میں بھی کبھی پانی تھا۔ 

اس کے بعد یاجوج ماجوج آگے بڑھیں گے۔ یہاں تک کہ جبل خمر تک پہنچ جائیں گے، 

جو بیت المقدس کا ایک پہاڑ ہے ، اور ظلم و غارت گری، اذیت رسانی اور لوگوں کو پکڑنے ،

قید کرنے میں مشغول ہو جائیں گے اور پھر کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کی ختم کر دیا،

چلو آسمان والوں کا خاتمہ کر دیں۔  چنانچہ وہ آسمان کی طرف اپنے تیر پھینکیں گے۔ 

اور اللہ تعالیٰ ان کے تیروں کو خون آلود کر کے لوٹا دے گا تا کہ وہ اس بھرم میں رہیں کہ ہمارے تیرواقعتہً آسمان والوں کا کام تمام کر کے واپس آئے ہیں۔

گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں ڈھیل دی جائے گی اور یہ احتمال بھی ہےکہ وہ تیر فضا میں پرندوں کو لگیں گے اور ان کے خون سے آلودہ ہو کر واپس آئیں گے ، 

پس اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ دجال کا فتنہ زمین تک ہی محدود نہیں رہے گا  بلکہ زمین کے اوپر بھی پھیل جائے گا۔ 

اس عرصہ میں خدا کے نبی اور ان کے رفقا یعنی حضرت عیسیٰؑ اور اس وقت کے مومن کوہ طور پر روکے رکھے جائیں گے اور ان پر اسباب و معیشت کی تنگی و قلت اس درجہ کو پہنچ جائے گیکہ ان کے لئے بیل کا سر تمہارے آج کے سو دیناروں سے بہتر ہو گا۔  جب یہ حالت ہو جائے گی تو اللہ کے نبی عیسیٰؑ اور ان کے ساتھی یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے لئے دعا و زاری کریں گے۔

پس اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں نغف یعنی کیڑے پڑ جانے کی بیماری بھیجے گا جس سے وہ سب یک بارگی اس طرح مر جائیں گے جس طرح کوئی ایک شخص مر جاتا ہے۔ 

یعنی نغف کی بیماری کی شکلمیں ان پر خدا کا قہر اس طرح نازل ہو گا کہ سب کے سب ایک ہی وقت میں موت کے گھاٹ اتر جائیں گے ،۔

اللہ کے نبی اور ان کے ساتھی اس بات سے آگاہ ہو کر پہاڑ سے اتر آئیں گے۔  اور انہیں زمین پر ایک بالشت کا ٹکڑا بھی ایسا نہیں ملے گا جو یاجوج ماجوج کی چربی اور بد بو سے خالی ہو۔ 

اس مصیبت کے دفیعہ کے لئے حضرت عیسیٰؑ اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے۔ 

تب اللہ تعالیٰ اونٹ کیگردن جیسی لمبی گردنوں والے پرندوں کو بھیجے گا جو یاجوج ماجوج کی لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ کی مرضی ہو گی اٹھا کر پھینک دیں گے۔

ایک اور روایت میں یہ ہے کہ وہ پرندے ان لاشوں کو فہبل میں ڈال دیں گے۔  ( فہبل یہ در اصل ایک جگہ کا نام ہے جو بیت المقدس کے علاقہ میں واقع ہے۔ دوسرے معنی گڑھے کے ہیں اور ایک معنی پہاڑ سے گرنے کے ہیں۔ ) 

اور مسلمان یا جوج ماجوج کیکمانوں تیروں اور ترکشوں کو سات سال تک چلاتے رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ ایک زور دار بارش بھیجے گا جس سے کوئی بھی مکان خواہ وہ مٹی کا ہو یا پتھر کا اور خواہ صوف کا ہو نہیں بچے گا وہ بارش زمین کو دھو کر آئینہ کی طرح صاف کر دے گی۔  

پھر زمین کو حکم دیا جائے گا کہ اپنے پھلوں یعنی اپنی پیداوار کو نکال اور اپنی برکت کو واپس لا،

چنانچہ زمین کی پیداوار اس وقت اس قدر بابرکت اوربا افراط ہو گی کہ دس سے لے کر چالیس آدمیوں تک کی پوری جماعت ایک انار کے پھل سے سیراب ہو جائے گی۔ 

اور اس انار کے چھلکے سے لوگ سایہ حاصل کریں گے۔

 نیز دودھ میں برکت دی جائے گی۔یعنی اونٹ اور بکریوں کے تھنوں میں دودھ بہت ہو گا۔  

یہاں تک کہ دودھ دینے والی ایک اونٹنی لوگوں کی ایک بڑی جماعت کے لئے کافی ہو گی۔ 

دودھ دینے والی ایک بکری آدمیوں کی ایک چھوٹی سی جماعت کے لئے کافی ہو گی۔

بہرحال لوگ اس طرح کی خوش حال اور امن و چین کی زندگی گذار رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک خوشبو دار ہوا بھیجے گا جو ان کی بغل کے نیچے کے حصہ کو پکڑے گی۔  (یعنی اس ہوا کی وجہ سے ان کی بغلوں میں درد پیدا ہو گا ) اور پھر وہ ہوا ہر مومن اور ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی اور صرف بدکار اور شریر لوگ دنیا میں باقی رہ جائیں گے جو آپس میں گدھوں کی طرح مختلط ہو جائیں گےاور ان ہی لوگوں پر قیامت قائم ہو گی۔   

اس پوری روایت کو مسلمؒ نے نقل کیا ہے۔

 بحوالہ: تیسیر الباری ترجمہ و شرح  صحیح بخاری جلد ۹، صفحہ ۱۸۹ تا ۱۹۱.


ملکی ترقی میں زراعت کی اہمیت ریسرچ و تحریر (قدیر مصطفائی برطانیہ )




براعظم امریکہ کے غریب ترین ممالک نے  جن میں پیرو ارجنٹائن  کولمبیا پیرگوئے اور یوروگوائے نے بیس سال پہلے تک بہت زیادہ بھوک اور رزق میں کمی کا سا منا کیا  اس کی ایک وجہ وہی ھے جو ساری دنیا کی مشترک وجہ ھے کہ نالائق حکمران اور منصوبہ بندی کا فقدان۔ لیکن ان پانچ ملکوں کا ایک اتحاد شروع سے موجود ھے  جسطرح ہمارا ھے سارک کے نام سے
چنانچہ اُس اتحاد کا سالانہ سربراہ اجلاس بیس سال پہلے والہ جو تھا وہ تاریخی ثابت ہوا اس میں جو فیصلے کیے گے وہ مندرجہ ذیل ہیں
۱::زرخیز اور قابل کاشت زمین کا تحفظ مطلب وہاں کوئی تعمیرات نہ ہونے دینا
۲:: قابل کاشت اراضی کی باقاعدہ تقسیم اور ملکیت کی حد مطلب ہر ایک کو تقریبا پچاس کنال کا فارم دینا
۳::بہت (کم زرخیز )آراضی پر جنگلات اگانا 
۴::اور بالکل ہی (بنجر اراضی) پر مکانات اور دیگر تعمیرات کرنا
۵: جس کے پاس دو یا چار کنال زرعی زمین ھے اور وہ ویسے ہی دبا کر بیٹھا زراعت اس نے کرنی نہیں ایک کھیتی یا دوکھیتیاں اس کے پاس ہیں تو وہ اس سے خرید کر پچاس کنال کے فارم میں شامل کر دی  اور کچھ کو ان کھیتیوں کے عوض شہر میں مکان دے دیے  جائیں
اب جناب ان ممالک نے ایسا کرنا شروع کر دیا دیکھتے ہی دیکھتے  خوراک کی گوشت کی انڈوں کی اور سبزی پھلوں کی کمی دور ہوتئ نظر آئی
مثلا مقامی کونسل جب کسی بندے کو زرعی فارم دیتی تو  ساتھ یہ ہدایت اور ان ہر سختی سے عمل کا کہتی وگرنہ یہ فارم چھین لینے کی دھمکی بھی ساتھ دیتی کہ
1: یہ فارم تماری ملکیت ھے لیکن اولاد میں قابل تقسیم نہیں  بس جس بچے کے پاس زراعت کی کم سے کم درجے کی ڈگری ہو گی  فارم کا مالک وہ کہلائے گا باقی بہن بھائیوں کو برابری کی رقم دے کر چلتا کرے گا
2: اس فارم کا مالک ہوتے ہوئے تماری اوپر لازم ھے کہ دس گائے  تیس بکریاں اور سو پرندے یعنی مرغیاں لازمی فارم میں موجود ہونی چاہیں
3: فارم کی حدود یا باونڈری بنانے کے لیے اینٹ یا پتھر کی دیوار کے بجائے پھل دار درختوں    کی قطار سے بنے گی
4: اور فارم کے مالک ہونے کے ناطے تمارے اوپر لازم ھے کہ  فارم کا ایک چھوٹا حصہ سبزیوں کے لیے مختص ہو گا 
5: اور ہر سال کے آخر میں کونسل کے نمائندے تمارے فارم آکر ایک ایک چیز کا جائزہ لیں گے کہ مطلوبہ چیزوں کی تعداد پوری ھے کہ نہیں ساتھ ساتھ پیداوار اور جانوروں کی صحت کو بھی چیک کیا جائے گا
6: اگر حدف پورا ھے تو ٹھیک -اگر کم ھے تو مدد کی جائے گی اور وارنیگ بھی دی جائے گی
7: لیکن اگر حدف سے بڑھ کر  پیداورھے  تو ایک الیکٹرک ٹریکٹر انعام دیا جائے گا جو ڈیزل وغیرہ پر بھی چلے گا لیکن عموما بجلی سے چارج ہو گا اور تمام زرعی  ضرویات کو پورا کرے گا

اس سال 2020 میں ان ممالک کے سربراہان کا سالانہ  اجلاس آن لائن  ہوا  اور دنیا کے دوسرے کونے سے ایک زرعی چیمپین  ملک اسٹریلیا نے بطور ابزرور مہمان شرکت کی سب ممالک نے اس خودکفالت  کو عبور  کرنے پر خوشی کا اظہار کیا 
جبکہ اسٹریلیا کی تجویز کو بھی انتہائیُ صحت افزا جان کر پروگرام کا حصہ بنا دیا اسٹریلیا کی تجویز یہ تھی کہ
ہر فارم میں جسطرح جانوروں اور مرغیوں کے لیے کمرے بنانے کی اجازت ھے اسی طرح فارم کے شروع میں مالک کو مکان بنانے کی اجازت دی جائے تا کہ  بہتر پرفارم کر سکے
لیکن گھر کی چھت پر سولر پینل لگا کر بجلی خود پیدا کر سکے
اور گوبر گیس پلانٹ لگا کر گیس بنانے کا پابند ہو گا 
نیز گھر کے استعمال شدہ پانی کو جمع کر کے آبپاشی کے لیے استعمال کرے گا
اب آپ اندازہ کریں صرف ایک حکومتی قدم سے سبزیاں پھل دالیں آٹا چاول دودھ گوشت انڈے بھی حاصل ہوئے روزگار بھی ملے گیس اور بجلی بھی بنی  
یار آپ تو زرخیز مٹی والا زرخیز موسموں والا ملک ہو  ذرا غور فرمانا اور اپنی رائے کا بھی اظہار فرمانا  اجازت چاہوں گا
ریسرچ و تحریر  (قدیر مصطفائی برطانیہ )





‏فون کے یہ 16خفیہ کوڈ


 ‏فون کے یہ 16خفیہ کوڈ جان لیں اور اپنا موبائل خود ہی ٹھیک کریں آج کل ہر کسی کے پاس موبائل فون موجود ہوتا ہے مگر بہت کم افراد کو علم ہے کہ چند مخصوص بٹن دبانے سے وہ اپنے موبائل کے چھپے ہوئے فنکشنز تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔


‏اس حوالے سے آئی او ایس اور اینڈرائیڈ میں مختلف کوڈز ہوتے ہیں، کچھ تو دونوں میں ایک ہی طرح کام کرتے ہیں.جبکہ کچھ مخصوص ماڈلز کے لیے ہوتے ہیں۔یہاں آپ ایسے ہی خفیہ کوڈز جانسکتے ہیں جو آپ کے فون کو زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ 

‏*#21
‏یہ کوڈ آپ کو یہ جاننے میں مدد دے گا کہ کہیں آپکی فون کالز، میسجز اور فون کا دیگر ڈیٹا کسی اور ڈیوائس پر منتقل تو نہیں ہورہا اور اگر ایسا ہو رہا ہے تو آپ جان پائیں گے کہ آپکے فون کی کونسی سروس کی معلومات یا کالز وغیرہ کہیں اور بھی جا رہی ہیں، اپنے فون سے اس کوڈ کو ڈائل کریں Divert ہونے والی تمام انفارمیشن آپ کے سامنے آجائے گی۔

‏*#62#
‏یہ کوڈ آپ کو بتائے گا کہ جب آپ کا فون سگنلز سے باہر ہو اور اُس پر کوئی کال یا میسج وغیرہ آئے تو وہ کہیں اور فارورڈ تو نہیں ہو رہا ، ہیکر آپکا فون باریک بینی سے اپنے قبضے میں کرتے ہیں اس لیے آپ کو اپنا چیک اپ بھی باریک بینی سے کرنا ہو گا۔

‏*#61#
‏اس کوڈ کو ڈائل کرنے سے آپ جان پائیں گے کہ جب آپ کوئی کال اٹینڈ نہیں کرتے تو ایسی صُورت میں وہ کال وغیرہ کسی اور نمبر پر فارورڈ تو نہیں ہو رہی۔

‏*#002#
‏یہ یونیورسل کوڈ ہے جو آپ کے فون پر لگی ہُوئی تمام Redirections کو ختم کر دے گا، اگر آپ نے اپنے فون کی کالز یا مسیجزیا کوئی اور ڈیٹا وغیرہ Redirect نہیں کیا ہُوا تو اس کوڈ کو ملا کر آپ اپنے دل کی اچھی طرح تسلی کر سکتے ہیں کہ آپ کی معلومات محفوظ ہیں۔

‏*#06#
‏اس کوڈ کی مدد سے آپ اپنے فون کا آئی ایم ای آئی نمبر جان سکتے ہیں یہ نمبر آپ کے فون کا مخصوص نمبر ہے جو اگر فون گُم جانے یا چوری ہو جانے کی صُورت میں آپ کے بہت کام آسکتا ہے، آپ اس نمبر کی مدد سے اپنا فون سیٹ بلاک کروا سکتے ہیں اور اگر کوئی اور آپ کے فون میں دُوسری سم ڈال کر استعمال کر رہا ہے تب بھی اس نمبر کی مدد سے پولیس جان جائے گی کہ آپ کا فون کہاں ہے۔

‏*##4636##*
‏موبائل فونز کے خاص کوڈ ہیکرز کو آپ کی لوکیشن بتا سکتے ہیں جس سے وہ آپ کا کہیں بھی تعاقب کر سکتے ہیں اور ان ہیکرز کے بارے میں جاننے کے لیے یہ کوڈ آپ کی مدد کر سکتا ہے، یہ کوڈ درحقیقت موبائل پروگرام بنانے والے ایڈوانس یوزرز کے لیے ہے لیکن اس کو ڈائل کر کے آپ اس سے اپنے موبائل کی سیل آئی CID اور لوکل ایریا کوڈ LAC نمبرز حاصل کر سکتے ہیں اور ان نمبرز کے ساتھ چند عام سی ویب سائٹس جو سیل آئی ڈی کے متعلق معلومات دیتی ہیں اور سیل آئی ڈی کی لوکیشن کو ڈُھونڈنے میں بھی مدد دیتی ہیں اور آپ ان کی مدد سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کوئی آپ کے موبائل سے بلا وجہ منسلک تو نہیں۔

‏آئی فون استعمال کرنے والے افراد ##4636## کی بجائے اپنے فون سے *3001#12345# ملا کر یہ معلومات سیل آئی ڈی اور ایل اے سی کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور اگر یہ سروس اُن کے موبائل پر میسر نہیں ہے تو ایسی صُورت میں اپنے فون مینوفیکچر ر سے رابطہ کریں۔

‏ ##4636## : اس کوڈ سے وائی فائی سگنل، بیٹری، یوزایج اسٹیٹکس اور دیگر معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔ ##7780## : اس سے فوری طور پر آپ فیکٹری سیٹنگز تک پہنچ سکتے ہیں جو کہ اپلیکشن ہی ڈیلیٹ کرے گی۔ 

‏##8351## : اس سے آپ گزشتہ 20 فون کالز میں اپنی آواز کی ریکارڈنگ سن سکتے ہیں۔ *#0011# : یہ سام سنگ گلیکسی کے سروس مینیو کو اوپن کرنے کا کوڈ ہے۔ ##4636## : یہ موٹرولا کا سیکرٹ مینیو ہے 👇

انسولین

اس وقت میرے سامنے دو مختلف انسولین ہیں، ان میں سے  ایک انسولین بلکل قدرتی انسولین جیسی ہے، یعنی ویسی ہے جیسی ہمارا لبلبہ بناتا ہے۔ جبکہ دوس...